چھت گیری کیا ہوتی ہے؟

چھت گیری / پارچه سقفی / Ceiling Cloth "۔۔۔۔۔اور بڑے بڑے جو درخت تھے ان کے تنوں اور شاخوں پر سفید و سبز طلائی ریشم کی تمامی کے غرارے چڑھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔” داستان امیر حمزہ از نواب مرزا امان علی خان غالب لکھنوی "۔۔۔۔۔چونے میں ابرک ملا کر مکان میں قلعی کی گئی تھی جس …

چھت گیری / پارچه سقفی / Ceiling Cloth

"۔۔۔۔۔اور بڑے بڑے جو درخت تھے ان کے تنوں اور شاخوں پر سفید و سبز طلائی ریشم کی تمامی کے غرارے چڑھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔”

داستان امیر حمزہ از نواب مرزا امان علی خان غالب لکھنوی

"۔۔۔۔۔چونے میں ابرک ملا کر مکان میں قلعی کی گئی تھی جس کی وجہ سے در و دیوار پڑے جگ مگ جگ مگ کر رہے تھے۔ صحن کو بھروا کر تختوں کے چوکے اس طرح بچھائے تھے کہ چبوترہ اور صحن برابر ہو گئے تھے۔ تختوں پر دری، چاندنی کا فرش، اس پر قالینوں کا حاشیہ، پیچھے گاو تکیوں کی قطار، جھاڑوں، فانوسوں، ہانڈیوں، دیوار گیریوں، قمقموں، چینی قندیلوں اور گلاسوں کی وہ بہتات تھی کہ تمام مکان بقعہ نور بن گیا تھا۔۔۔۔۔”

مرزا فرحت اللہ بیگ

"۔۔۔۔۔میری خوبصورت چھت گیری میں جگہ جگہ بھمباقے لگا دیئےہیں۔ لکڑی لے کر مارتا ہوں تو کیا مجال باہر نکل جائے۔ چھت گیری کے اندر دوڑتی پھرتی ہے۔ میں دوڑتا دوڑتا ہانپ جاتا ہوں پسینہ سارے کپڑوں کو تر کر دیتا ہے، مگر یہ بےغیرت اچھلتی پھرتی ہے۔ ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر۔۔۔۔۔”

خواجہ حسن نظامی

لال پردے سرخ چھت گیری پھرا چُونا نیا
دھوپ نکلی عکس سے سب گھر گلابی ہو گیا

جانصاحب

"۔۔۔۔۔جن گھروں میں پرانی چھتیں کڑی تختے کی ہیں، ایسی چھتوں کے اندرونی حصوں میں دھنّیوں (کڑیوں) اور تختوں کی کسی طرح کی بدنمائی کو چھپانے کے لیے اور کبھی محض بہ طور آرائش کسی طرح کا ، خوب صورت رنگین کپڑا تان دیا جاتا تھا۔ [چھپڑ کھٹ کے چوکھٹے میں بھی لگایا جاتا تھا]”

رشید حسن خاں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یاد نہیں ، پہلی بار چھت گیری کا لفظ کہاں پڑھا۔ شاید میر حسن نے دست گیری کی ہو۔
مثنوی ہجوِ حویلی! کیسی بھری پُری مثنوی ہے۔ حویلی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتا ہے۔ درجنوں نئے لفظ ، دل چسپ اور چونچال۔ تھلہ ، پتال ، غربال۔۔۔ سحر البیان میں بھی فنِ تعمیر کی کئی اصطلاحیں موجود ہیں۔

ان اصطلاحوں میں سب سے اہم اور عام چھت گیری ہے۔ چھت گیری چھت کے منہ کو گھیرتی تھی۔ تاکہ خاک اور اُکھیڑ فرش پر نہ آئے۔ پرانے دور کی عمارتوں کو لکھوری کے مسالے سے اُٹھایا جاتا تھا۔ لکھوری میں ماش کی دال ، گڑ ، چونا اور میتھی شامل ہوتی تھی۔ دیواریں آہن سے مضبوط ہوتی تھی۔ لیکن فطری مسالوں سے مٹی جُھرجُھراتی تھی۔ مٹی کے جھاڑن سے بچنے کے لیے چھت گیریاں یا دیوار گیریاں استعمال ہوتی تھیں۔

اکثر یہ چھت گیریاں قیمتی کپڑوں کی ہوتی تھیں۔ لکھنؤ میں اطلس و ریشم کی چھت گیریاں بھی سنی ہیں۔ ان چھت گیریوں کے رنگ گوناں گوں ہوتے تھے۔ سنہرے اور روپہلے۔ فرش کی چاندنی کے چاروں کونوں پر بڑے بڑے پتھر سلیقے سے جمائے جاتے تھے۔ انھیں میر فرش کہتے تھے۔ ان پتھروں پر چھوٹے چھوٹے گنبد ہوتے تھے ، دیدہ زیب اور نفیس۔

میر فرش چاندنی کو اُڑنے سے بچاتے تھے۔
کیا نچنت زندگی تھی! بسم اللہ کے گنبد میں گزران تھی۔

انیس اشفاق صاحب کا کہنا ہے : چھت گیریاں لکھنؤ کے عزا خانوں کا اہم جزو تھیں۔
اس واسطے کہ چھت سے گرد یا پیڑ سے جھاڑ ضریح پر نہ گرے۔

رئیسوں کے باغوں میں درختوں کے آس پاس اور نیچے بھی جالی دار چھت گیریاں ہوتی تھیں تاکہ پرندوں کی آلائش سے محفوظ رہا جائے۔

کپڑوں والی چھت گیری کو انگریزی میں Ceiling Cloth اور فارسی میں پارچهٔ سقفی کہتے ہیں۔ کپڑوں والی چھت گیری معلوم نہیں لیکن جالی دار چھت گیری میں نے دیکھی ہے۔ دور کیوں جائیں ، جی سی یونیورسٹی لاہور کی پرانی عمارت دیکھ لیجیے۔ ایک دو جگہ جالی موجود ہے۔ باریک حلقوں والی جالی۔
جالی دار چھت گیری کا مصرف غالباً پرندوں کے گھونسلوں سے بچنا ہوتا ہے۔

جالی اور چھت سے ناسخ کا شعر یاد آیا۔ کیسا شعر ہے ! آسمان کی خبریں لاتا ہے:

آسمان پر نظر کو کی شبِ ہجر
سمجھے ہم مقبرے کی جالی ہے

اللہ اللہ!

ویڈیو کے لیے دیکھیے لنک:

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button